کانپور ،22؍ نومبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جب کہ ملک میں ای وی ایم سے ووٹ ڈالنے کی رسم چل پڑی ہے ، ووٹروں میں اطمینان کے بجائے ہیجان ہی پیدا ہوا ہے اور ای وی ایم کے متعلق طرح طرح کی افواہیں گردش کرنے لگی ہیں ۔ تازہ اطلاع کے مطابق کانپور میں ای وی ایم میں بڑی خرابی پائی گئی حتی کہ ووٹروں نے عام شکایت کی کہ ہم اپنی صوابدید کے موافق اپنی پسند کے امیدواروں کو انتخابی نشان کے آگے بٹن دبا تے تھے ؛ لیکن یہ سبھی ووٹ بی جے پی کے انتخابی نشان پر درج ہوتا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد ووٹروں میں خلجان بپا ہوا جس کے نتیجے میں ووٹروں نے پولنگ بوتھ پر ہنگامہ آرائی بھی کی اور پولیس نے اس واقعہ کے پیش نظر جم کر لاٹھیاں بھی برسائیں ۔ ای وی ایم کے متعلق خرابی کی ایک ویڈیو براہ راست پولنگ بوتھ سے ریکارڈ کئی ہوئی سوشل میڈیا کے صارفین کے پاس پہنچ رہی ہے اور یہ ویڈیو آگ کی طرح وائرل ہور ہی ہے جس میں ووٹر یہ کہتے ہوئے نظرآتے ہیں کہ ہم نے اپنی پسند کے امیدواروں کے انتخابی نشان پربٹن دبایا تھا ؛ لیکن ہمار ووٹ بی جے پی کے کھاتہ میں چلا گیا ۔ اس سے ناراض ووٹروں نے ہنگامہ آرائی کی جس کے نتیجے میں پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کی ہے جس سے کئی افرادزخمی بھی ہوگئے ۔ واضح ہو کہ یہ واقعہ کانپور کے چیکری علاقہ کے وارڈ نمبر 58پر پیش آیا ۔ ووٹرکا الزام ہے کہ جب انہوں نے ہاتھی نشان پر بٹن دبایا تو میرا ووٹ براہ راست کمل کے انتخابی نشان کے کھاتے میں گیا ۔ اس طرح کا واقعہ صرف ایک شخص کے ساتھ پیش نہیں آیا ؛ بلکہ کئی افراد کے ساتھ یہی ماجرا پیش آیا ، تاہم انتظامی امور میں کسی طرح کی چوک سے انکار کیا جا رہا ہے ۔ ووٹروں نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے برسر اقتدار طبقہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے اندورونِ خانہ سیٹنگ کی ہے اور انہوں نے ای وی ایم ہیک کیا ہے ، ان کا مطالبہ ہے کہ اس مقام کی ووٹنگ کو منسوخ سمجھا جائے اور پھر کسی اور دوسری تاریخ میں ووٹنگ کرائی جائے ۔ وہیں اس واقعہ کولیکر سپا اور بسپا سمیت مختلف پارٹیوں میں بھی اشتعال ہے اور الیکشن کمیشن کے باہمی ساز باز ہونے کا الزام بھی لگا رہی ہیں ۔ واقعہ کی اطلاع پر تادم تحریر پریسائڈنگ افسر کو ہٹادیا گیا اور بوتھ کی ای وی ایم مشین بھی بدلی جا چکی ہے اور وہاں بدستور ووٹنگ جاری تھی ۔عام ووٹروں نے اسے جمہوریت کے قتل کے مترادف ہونے کا اظہا رکیا ہے جو کہ قابل تشویش ہے ۔